باڑ[1]
معنی
١ - قطار، صف۔ "ہماری راہ میں کانٹوں کی باڑیں کھڑی کی جائیں گی۔" ( ١٩٤٩ء، خاک و خون، ٢٣١ ) ٢ - حاشیہ، کنارہ، احاطہ، حد، چار دیواری۔ "باغیچے کی سجاوٹ کو دوبالا کرنے کے لیے باڑ لگا کر باغ کی حدبندی کی جاتی ہے۔" ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٥٧٩ ) ٣ - لڑی(ہار وغیرہ کی)۔ "پانچ باڑ کا موتیا کا کنٹھا گوندھ کے لائی ہے جھولی بھر کے انعام لے گی۔" ( ١٩١١ء، قصۂ مہر افروز، ٢ ) ٤ - [ زراعت ] کھیت کے اطراف حفاظت کے لیے کانٹوں دار جھاڑی۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 13:6) کھیت رستے پر ہے اور رہ رو سوار کشت ہے سرسبز اور نیچی ہے باڑ ( ١٨٩٢ء، دیوان حالی، ٨٠ ) ٥ - جنگلا۔ "دیکھوں تو بڑا بھائی جہاز کی باڑ پر ہاتھ ٹیکے نہوڑا ہوا تماشا دریا کا دیکھ رہا ہے۔" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٤٢ ) ٧ - [ تعمیرات ] پتھر کے فرش یا سڑک کی پٹری کے کنارے کا پشتی بان۔ "باڑ - کے درمیان خالص سڑک کا عرض ٣٤ فٹ ہے۔" ( ١٩٤١ء، تعمیروں کا نظریہ اور تجویز، ٧٧٣:٢٢ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'وٹنی" ہے اس سے ماخوذ اردو میں 'باڑ' مستعمل ہے اصلی معنی میں ہی یعنی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٢٧ء میں توزک "جہانگیزی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قطار، صف۔ "ہماری راہ میں کانٹوں کی باڑیں کھڑی کی جائیں گی۔" ( ١٩٤٩ء، خاک و خون، ٢٣١ ) ٢ - حاشیہ، کنارہ، احاطہ، حد، چار دیواری۔ "باغیچے کی سجاوٹ کو دوبالا کرنے کے لیے باڑ لگا کر باغ کی حدبندی کی جاتی ہے۔" ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٥٧٩ ) ٣ - لڑی(ہار وغیرہ کی)۔ "پانچ باڑ کا موتیا کا کنٹھا گوندھ کے لائی ہے جھولی بھر کے انعام لے گی۔" ( ١٩١١ء، قصۂ مہر افروز، ٢ ) ٥ - جنگلا۔ "دیکھوں تو بڑا بھائی جہاز کی باڑ پر ہاتھ ٹیکے نہوڑا ہوا تماشا دریا کا دیکھ رہا ہے۔" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٤٢ ) ٧ - [ تعمیرات ] پتھر کے فرش یا سڑک کی پٹری کے کنارے کا پشتی بان۔ "باڑ - کے درمیان خالص سڑک کا عرض ٣٤ فٹ ہے۔" ( ١٩٤١ء، تعمیروں کا نظریہ اور تجویز، ٧٧٣:٢٢ )